ہے زیر سنگ یہاں سوچ کا اگاؤ ابھی
ہے زیر سنگ یہاں سوچ کا اگاؤ ابھی
لہو لہو ہے نئی کونپلوں کا چاؤ ابھی
وہی ہوا وہی خیمے کا پارہ پارہ بدن
وہی سفر ہے وہی جسم کا کٹاؤ ابھی
ہر ایک سانس ہے کس دکھ کی ریت کا مشروب
ہے کس سراب میں ہر لہر کا بہاؤ ابھی
خلا کے نتھرے سمندر میں دے رہائی مجھے
ہے دلدلوں میں مری روشنی کی ناؤ ابھی
میں اپنے درد کی ہریالیوں کا معدن ہوں
تہ زمیں ہے مرے پیڑ کا الاؤ ابھی
نظر نظر ہے یہاں شب پرست اے مرے دل
کرن کرن ہے یہاں کنکروں کے بھاؤ ابھی
لبوں پہ گونگی صداؤں کا سر بریدہ شور
سروں پہ بہری چٹانوں کا ہے جھکاؤ ابھی
بسر گئیں وہ رتیں کھو گئے وہ سادہ لوگ
ہرے ہیں اجڑی ہوئی سنگتوں کے گھاؤ ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.