Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

یہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گی

ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گا

اپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی

دل رشک عدو سے ہے سپند سر آتش

یہ شمع تری بزم میں جلتی ہی رہے گی

غمزہ ترا دھوکا یوں ہی دیتا ہی رہے گا

تلوار ترے کوچے میں چلتی ہی رہے گی

اک آن میں وہ کچھ ہیں تو اک آن میں کچھ ہیں

کروٹ مری تقدیر بدلتی ہی رہے گی

انداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں

واں ایک نہ اک بات نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ کو رہا انس جو یوں فن سخن سے

یہ شاخ ہنر پھولتی پھلتی ہی رہے گی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے