مت مرے سامنے متروک روایت لاؤ
مت مرے سامنے متروک روایت لاؤ
کچھ نئی بات کرو شعر میں جدت لاؤ
نئے منظر ہی جواں رکھتے ہیں بینائی کو
زندہ رہنا ہے تو دل میں کوئی حسرت لاؤ
بعد میں آنا تم اس دشت میں وحشت کے لئے
قیس سے پہلے ذرا جا کے اجازت لاؤ
خون دل خون جگر مانگتے ہیں شعر میاں
شدت عشق یا پھر شدت نفرت لاؤ
ایسے کیسے تمہیں دیوانہ کہے گی دنیا
اپنی آنکھوں میں ذرا تھوڑی سی وحشت لاؤ
کب تلک سینے میں جذبات چھپاؤ گی تم
اس سے اظہار کرو پیار کا ہمت لاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.