مانے گا مشورہ نہ اگر دل دماغ کا
مانے گا مشورہ نہ اگر دل دماغ کا
گھر کو جلا کے چھوڑے گا تیل اس چراغ کا
فنکار عصر نو کو صدا دے رہا ہے آج
سو داستاں لیے ہوئے ہر غنچہ باغ کا
ہے ذہن سنگ تو اسے دے مار سنگ پر
بیکار جانے پائے نہ لاوا دماغ کا
یکجا ہوا جو ذہن تو دیکھا عجیب رنگ
منہ پھیر کر گزر گیا لمحہ فراغ کا
دل روشنی میں کم نہیں خورشید سے مگر
روحیؔ عذاب جاں ہے دھواں اس چراغ کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.