کسی دن چپ کی دیواروں پہ ہم تصویر چھوڑیں گے
کسی دن چپ کی دیواروں پہ ہم تصویر چھوڑیں گے
جہاں آواز دب جائے وہاں تحریر چھوڑیں گے
نہ آہوں میں نہ آنکھوں میں نہ سایوں میں نظر آئیں
ہم اپنا دل بھی لوگوں کی خوشی میں چیر چھوڑیں گے
تمہیں سمجھا نہیں سکتے کہ خود کو بھی نہیں سمجھے
اسی بے ربط جملے میں کوئی تاثیر چھوڑیں گے
یہاں ہر بات میں شامل ہے کچھ انکار کا پہلو
ہم اپنی ہاں سے ہی جذبات کی تعمیر چھوڑیں گے
نہ ہم واعظ نہ ہم صوفی نہ ہم شاعر نہ عاشق ہیں
جہاں دل ٹوٹ جائے گا وہیں تعبیر چھوڑیں گے
تمہارے بعد جینے کا کوئی منصوبہ کیا رکھنا
بس اک دن سانس رک جائے تو یہ تقدیر چھوڑیں گے
جو دل میں بات ہے ساغرؔ اگر اشعار میں آئے
تو کچھ مصرعوں میں اپنی جان کی تنویر چھوڑیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.