ہمارے ذہن میں آئی تھی کل چھناک غزل
ہمارے ذہن میں آئی تھی کل چھناک غزل
جمود تھا جو وہاں کر گئی ہلاک غزل
یہ نکتہ سمجھیں کہ آغاز میں ہے خاک غزل
وجود بخشے خیالوں کو تب ہے چاک غزل
کبھی ہے کرشن کی بھکتی کبھی ہے نعت نبی
کبھی علی کی ثنا سے ہوئی ہے پاک غزل
امیر خسرو ہوں سعدی ہوں یا کہ حافظ ہوں
ہے ان کا فیض بٹھائے دلوں پہ دھاک غزل
یہ عاشقوں کے سناتی ہے شوخ افسانے
ہے ان کے لمحۂ نازک میں تانک جھانک غزل
قبول کر لیا ستھرے سخن شناسوں نے
ہے جسم شاعری اور شاعری کی ناک غزل
بتائی تجھ کو حسینوں نے اپنے عشق کی بات
بتا ہمیں بھی بتا کیوں ہے تجھ کو باک غزل
پکارتے ہیں مجھے دوست کہہ کے کمپیوٹر
مجھے خیال بس آیا ہوئی سٹاک غزل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.