اندر کے شور و غل کو دبانے کے واسطے
اندر کے شور و غل کو دبانے کے واسطے
ہم بولتے ہیں راز چھپانے کے واسطے
رخت سفر لٹا کے پلٹنے لگے ہیں اب
نکلے تھے جو گھروں سے خزانے کے واسطے
وہ اور ہیں لٹاتا ہے جن پر وہ جان و دل
ہم تو فقط ہیں دل کو لبھانے کے واسطے
وہ اتنے انہماک سے سنتا ہے مجھ کو یار
باتیں بناتی ہوں میں سنانے کے واسطے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.