Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

ساحر لدھیانوی

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

ساحر لدھیانوی

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

خلوتوں کے شیدائی خلوتوں میں کھلتے ہیں

ہم سے پوچھ کر دیکھو راز پردہ داروں کے

گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں

یا حسیں دھندلکوں میں پھول ہیں بہاروں کے

پہلے ہنس کے ملتے ہیں پھر نظر چراتے ہیں

آشنا صفت ہیں لوگ اجنبی دیاروں کے

تم نے صرف چاہا ہے ہم نے چھو کے دیکھے ہیں

پیرہن گھٹاؤں کے جسم برق پاروں کے

شغل مے پرستی گو جشن نامرادی تھا

یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے