اختیار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
اختیار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
اقتدار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
شعر میں ہو نثر میں ہو یا کہ ہو ملبوس میں
اختصار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
کچھ تو اپنے پاؤں پر اٹھنے کی ہمت کیجیے
انحصار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
یہ ضروری تو نہیں ہے کامیابی ہو حضور
کاروبار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
کچھ تو ہوتی ہے بخاریؔ عزت و توقیر بھی
انکسار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
سادگی کی بھی ہوا کرتی ہے عاصمؔ ایک حد
اعتبار اچھا ہے لیکن اس قدر بھی تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.