وصل کی رات ہو مقسوم بھلے عید کے بعد
وصل کی رات ہو مقسوم بھلے عید کے بعد
دل کے ارمان مچلتے ہیں تری دید کے بعد
پھر وہی درد کا عالم وہی تنہائی کی رات
دل دھڑکتا ہے تری یاد کی تائید کے بعد
کتنے مہتاب مرے دشت تمنا میں کھلے
اک تری جلوہ گری حسن کی تجدید کے بعد
کوئی پیغام کوئی حرف تسلی تو ملے
بڑھ گئی دل کی تڑپ وصل کی امید کے بعد
اب کسی اور ستارے کی ضرورت ہی نہیں
تاباں افکار ہوئے نور کی تمہید کے بعد
آج پھر چاند نے دی ہے مجھے تیری خوشبو
ایک مدت کی کڑی ہجر کی تحدید کے بعد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.