Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا

ثقلین مشتاق

تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا

    ساقی نہ سہی بادۂ گلفام تو آیا

    صد شکر مرے شوق کا انعام تو آیا

    وہ گیسوئے خم دار لب بام تو آیا

    رندوں کی تسلی کے لئے یہ بھی بہت ہے

    میخانے میں کوئی ترا ہم نام تو آیا

    ناراض نہیں اس سے ہوا کرتے کبھی بھی

    جو صبح کو بھولا تھا سر شام تو آیا

    تاخیر سے آیا ہے مگر پھر بھی خوشی ہے

    اس گل کی ہتھیلی پہ مرا نام تو آیا

    پھر دیکھ کے میخانے میں ہم کو وہ کہے ہے

    صیاد کوئی آج تہ دام تو آیا

    غزلوں سے مری جان ملی تجھ کو تسلی

    مشتاقؔ ترے آج کسی کام تو آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے