تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا
تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا
ساقی نہ سہی بادۂ گلفام تو آیا
صد شکر مرے شوق کا انعام تو آیا
وہ گیسوئے خم دار لب بام تو آیا
رندوں کی تسلی کے لئے یہ بھی بہت ہے
میخانے میں کوئی ترا ہم نام تو آیا
ناراض نہیں اس سے ہوا کرتے کبھی بھی
جو صبح کو بھولا تھا سر شام تو آیا
تاخیر سے آیا ہے مگر پھر بھی خوشی ہے
اس گل کی ہتھیلی پہ مرا نام تو آیا
پھر دیکھ کے میخانے میں ہم کو وہ کہے ہے
صیاد کوئی آج تہ دام تو آیا
غزلوں سے مری جان ملی تجھ کو تسلی
مشتاقؔ ترے آج کسی کام تو آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.