ستم پہ بھی خلش انتظار ہے کہ نہیں
ستم پہ بھی خلش انتظار ہے کہ نہیں
اسی کے واسطے دل بے قرار ہے کہ نہیں
تمہارا جور و ستم سہہ کے مسکراتا ہوں
مری وفا پہ تمہیں اعتبار ہے کہ نہیں
ستم کے بعد کرم بے شمار کیا معنی
یہ پوچھنے کا ہمیں اختیار ہے کہ نہیں
چمک رہا ہے جو تیری قبائے رنگیں میں
وہ میرے چاک گریباں کا تار ہے کہ نہیں
یہ دیکھنا ہے مجھے آج تیری محفل میں
خطا پہ اپنی کوئی شرمسار ہے کہ نہیں
جو بلبلوں کے ترانوں سے گونجتا تھا کبھی
وہ لالہ زار اب اجڑا دیار ہے کہ نہیں
ہمیں نہ فخر ہو کیوں خود پہ گلستاں والو
ہمارے دم سے چمن میں بہار ہے کہ نہیں
انہیں غرور تھا اے نورؔ جس گلستاں پر
وہ آج دور خزاں کا شکار ہے کہ نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.