شکوے گلوں سے شکوے ہمیشہ جسے رہے
شکوے گلوں سے شکوے ہمیشہ جسے رہے
تا عمر ہم کو اس سے ہی شکوے گلے رہے
ہم ایک نامراد سی خواہش کے منتظر
جھولی میں آئی نعمتیں بھی جھاڑتے رہے
مصروف کر دیا ہمیں حساسیت نے دوست
چھوٹی سے بات دیر تلک سوچتے رہے
اک شخص تیری دید سے لبریز ہو گیا
اک ہم جو صرف راہ تری دیکھتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.