محبت کا سفر ہے کس قدر پیچیدہ پیچیدہ
محبت کا سفر ہے کس قدر پیچیدہ پیچیدہ
بڑھا میرا قدم اس راہ پر لغزیدہ لغزیدہ
نہ ہو مایوس تم راہ طلب میں حوصلہ رکھو
نہ ہو گر ضبط تو رو لو مگر پوشیدہ پوشیدہ
مری بزم تخیل میں نئی سج دھج سے وہ آئے
شفقؔ گالوں پہ رقصاں ہے نظر دزدیدہ دزدیدہ
لب لعلیں نظر آتے ہیں یوں اس روئے رنگیں پر
گل تر ہو کوئی جوں شاخ پر خندیدہ خندیدہ
سنوارا لاکھ میں نے فکر سے زلف پریشاں کو
مگر پھر بھی ملی وقت سحر ژولیدہ ژولیدہ
بتاؤں کس طرح اس با حیا کے وصف میں تم کو
ادا اس کی ہے دلکش بات ہر سنجیدہ سنجیدہ
نہ نکلی حسرت دل تشنگی بھی ہو گئی دونی
وہ آئے دل کی دنیا میں مگر خوابیدہ خوابیدہ
لیے دل میں تمنا اس نگاہ مست کی اکثر
پھرا کرتا ہوں راہوں میں مگر رنجیدہ رنجیدہ
تصور بھی کسی کا اب مجھے دینے لگا دھوکا
ہوا جاتا ہوں میں کس پر فدا نادیدہ نادیدہ
نہ گزرو تم متینؔ اب بے خودی میں کوئے جاناں سے
کہیں وہ ہو نہ جائے دیکھ کر غم دیدہ غم دیدہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.