خزاں کا دور ہے پھر بھی بہار باقی ہے
خزاں کا دور ہے پھر بھی بہار باقی ہے
وہ اس لئے کہ ابھی یاد یار باقی ہے
نگاہ مست سے کل شام اتنی پی لی تھی
کہ رات بیت گئی ہے خمار باقی ہے
نہ ان کو اپنی نگاہوں پہ ہے کوئی قابو
نہ اپنے دل پہ ہمیں اختیار باقی ہے
گزر گیا ہے امیدوں کا کارواں لیکن
رہ حیات میں اب تک غبار باقی ہے
ابھی پیام ہی آیا ہے ان کی جانب سے
ابھی تو اور غم انتظار باقی ہے
یہ ہے کرشمۂ حسن خیال اے راہیؔ
کہ گم ہے شیشۂ دل عکس یار باقی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.