کئی برس کا ابھی انتظار رہتا ہے
کئی برس کا ابھی انتظار رہتا ہے
سو دیکھتے ہیں کہ کب تک یہ پیار رہتا ہے
وہ ایک جملہ جو اس نے کبھی کہا ہی نہیں
ہمارے ذہن پہ اکثر سوار رہتا ہے
ہنسا جو آئنہ ہم پر تو توڑ کر پوچھا
سمجھ گئے کوئی کیوں سوگوار رہتا ہے
نئی رفاقتوں کا بوجھ خود پہ مت لادو
ابھی تو آپ پہ پچھلا ادھار رہتا ہے
تری کمی ترا آنا بھی کم نہ کر پایا
ہمیں تو اب بھی ترا انتظار رہتا ہے
بچھڑ کے وہ بھی اکیلا ہی ہے ہماری طرح
اس ایک بات سے دل بے قرار رہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.