ہیں منتظر کسی ہنستی ہوئی سحر کے لیے
ہیں منتظر کسی ہنستی ہوئی سحر کے لیے
امیدوار ہیں ہم تیری اک نظر کے لیے
ہمارے حال پہ روتی ہے خانہ ویرانی
سمیٹتے رہے خوشیاں پرائے گھر کے لیے
دل خراب کہ اب راستے کا پتھر ہے
مری جبیں کے لیے ہے نہ تیرے در کے لیے
اسی سے دل کی تمنا میں رنگ بھر لیں گے
یہ ایک زخم ملا ہے جو عمر بھر کے لیے
فقط ہمیں پہ گراں ہے ہماری موت انورؔ
یہ بات اور بھی آساں ہے چارہ گر کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.