Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غم کی ہے کوئی شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ثقلین مشتاق

غم کی ہے کوئی شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    غم کی ہے کوئی شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    لب پہ ہے تیرا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    حیرت سے مری اور تو کیوں دیکھ رہا ہے

    تو ہاتھ مرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    شامل تو نہیں اس میں کوئی زہر کا عنصر

    ہاتھوں میں لیے جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    پھر دیکھ کے مے خانے میں زاہد کی کوئی شکل

    اے ساقیٔ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    کر لی ہے تری آج ہر اک فرد نے بیعت

    اس عہد کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    پھر خط کو ترے دیکھ کے الجھی ہے طبیعت

    پھر پڑھ کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    میں بھی تو کھڑا ہوں ترے مے خواروں کی صف میں

    مجھ کو بھی تو دے جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    اس زلف سیہ فام سے مشتاقؔ ترے نام

    کب آئے گا پیغام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے