غم کی ہے کوئی شام میں کچھ سوچ رہا ہوں
غم کی ہے کوئی شام میں کچھ سوچ رہا ہوں
لب پہ ہے تیرا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں
حیرت سے مری اور تو کیوں دیکھ رہا ہے
تو ہاتھ مرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں
شامل تو نہیں اس میں کوئی زہر کا عنصر
ہاتھوں میں لیے جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
پھر دیکھ کے مے خانے میں زاہد کی کوئی شکل
اے ساقیٔ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں
کر لی ہے تری آج ہر اک فرد نے بیعت
اس عہد کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں
پھر خط کو ترے دیکھ کے الجھی ہے طبیعت
پھر پڑھ کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں
میں بھی تو کھڑا ہوں ترے مے خواروں کی صف میں
مجھ کو بھی تو دے جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
اس زلف سیہ فام سے مشتاقؔ ترے نام
کب آئے گا پیغام میں کچھ سوچ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.