دشت میں ہی گہر بنے کوئی
دشت میں ہی گہر بنے کوئی
گھر کہیں پر اگر بنے کوئی
ایک آہٹ سے ایک دستک سے
وسوسہ رات بھر بنے کوئی
اس خرابے میں سرخ رو صیاد
غیر ممکن ہے پر بنے کوئی
دل رسائی کی بات کرتا ہے
اس گلی نامہ بر بنے کوئی
مدتوں بعد اس کو دیکھا ہے
حادثے کی خبر بنے کوئی
دن تو دنیا گزار دیتی ہے
رات کا ہم سفر بنے کوئی
اپنا دامن سمیٹ کر رکھے
گر کسی کی سپر بنے کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.