آسماں آشیاں نہ ہو جائے
آسماں آشیاں نہ ہو جائے
لا مکانی مکاں نہ ہو جائے
عشق کے اس مقام پر ہوں جہاں
امتحاں امتحاں نہ ہو جائے
رو برو ہیں وہ آج محفل میں
داستاں داستاں نہ ہو جائے
ڈر ہے میری صدا کہیں ایک دن
میری آہ و فغاں نہ ہو جائے
اتنا خاموش ہوں کہ لگتا ہے
بے زبانی زباں نہ ہو جائے
بعد مدت کے آ رہے ہیں وہ
آرزو پھر جواں نہ ہو جائے
بس نہیں کہتا رہتا ہوں ذیشانؔ
جب تلک اس کی ہاں نہ ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.