تری تخلیق نے بدلے ہیں یہ عنواں کیسے
تری تخلیق نے بدلے ہیں یہ عنواں کیسے
تن انساں میں اچھلنے لگے حیواں کیسے
تو نے تو اعلیٰ و اشرف کا شرف بخشا تھا
گر کے پاتال تک آئے ترے انساں کیسے
جب کہ احساس کا جھگڑا ہی مٹا ڈالا ہو
اپنے اعمال پہ پھر کوئی پشیماں کیسے
کون مخلوق غلط کار کو دے گا کشتی
نوح جب کوئی نہیں ہے تو یہ طوفاں کیسے
تن گئی آ کے سمندر کی یہ چادر کیوں کر
ہٹ گیا سر سے مرے سایۂ یزداں کیسے
آج سورج نہیں پانی ہے سوا نیزے پر
سج گیا سر پہ مرے حشر کا میداں کیسے
کس نے آباد گھروندوں کو کھنڈر کر ڈالا
بس گئے شہر کی گلیوں میں بیاباں کیسے
اپنے ہاتھوں سے جہاں تو نے کیا ہے آباد
اپنے ہاتھوں سے کرے گا اسے ویراں کیسے
میرا انسان بھٹکتا تو کوئی بات نہ تھی
راستہ بھول گیا ہے ترا انساں کیسے
کتنے وحشی نکل آئے ہیں سر عام عدیمؔ
کھل گیا فطرت آدم کا یہ زنداں کیسے
یہ نبوت کا زمانہ تو نہیں کوئی عدیمؔ
دل میں ابھری ہوس تخت سلیماں کیسے
زندگی موت سے بد تر ہوئی جاتی ہے عدیمؔ
پھر بھی حیرت ہے کہ جینے کے ہیں ارماں کیسے
روح پر کتنی خراشیں ہیں تری سانسوں کی
زندگی اور اٹھاؤں ترے احساں کیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.