مجھے حاصل سرور و کیف پیمانے سے کیا ہوگا
مجھے حاصل سرور و کیف پیمانے سے کیا ہوگا
گھڑی بھر کے لئے دل کے بہل جانے سے کیا ہوگا
بتوں سے بھی علاج درد انساں ہو نہیں سکتا
حرم سے جب نہیں ممکن تو بت خانے سے کیا ہوگا
سکوں افزا ہے بے ہوشی مجھے بے ہوش رہنے دو
نہیں معلوم میرے ہوش میں آنے سے کیا ہوگا
یہ ان پر منحصر ہے وہ خوشی دیں یا الم بخشیں
ٹھہر جا دل ٹھہر جا تیرے گھبرانے سے کیا ہوگا
ترے وحشی نے الفت کے کئے طے مرحلے سارے
یہی کہتی رہی دنیا کہ دیوانے سے کیا ہوگا
تمہیں جو مانگنا ہے اہل دل سے مانگ لو مضطرؔ
زمانے بھر کے آگے ہاتھ پھیلانے سے کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.