Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہے سفر میں کاروان بحر و بر کس کے لیے

محمد خالد

ہے سفر میں کاروان بحر و بر کس کے لیے

محمد خالد

ہے سفر میں کاروان بحر و بر کس کے لیے

ہو رہا ہے اہتمام خشک و تر کس کے لیے

کس کی خاطر ذائقوں کی سختیوں میں ہیں ثمر

اور جھک جاتی ہے شاخ بارور کس کے لیے

کس کی خاطر ہیں بدلتے موسموں کی بارشیں

دل غمیں کس کے لیے ہے چشم تر کس کے لیے

رت جگوں میں گونجنے والی صدائیں کس کی ہیں

ہے ہنر کس کے لیے عرض ہنر کس کے لیے

کس نے زخم نارسی سے بھر دیے ہیں راستے

چارہ سازی کس لیے ہے چارہ گر کس کے لیے

لا مکاں میں کون رہتا ہے مکاں میں کیا نہیں

دشت ہیں کس کے لیے دیوار و در کس کے لیے

کس نے رکھی ہیں ہر اک منظر میں رنگیں ساعتیں

خلق فرمائے گئے ہیں بے بصر کس کے لیے

کون سنتا ہے ہواؤں کی عجب سرگوشیاں

اور جاتی ہیں ہوائیں در بدر کس کے لیے

مأخذ :
  • کتاب : meyaar (Pg. 392)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے