آتی ہے دل سے کیسی صدا سوچ تو سہی
آتی ہے دل سے کیسی صدا سوچ تو سہی
تجھ میں ہے کون تیرے سوا سوچ تو سہی
کیا خاک میں ہنر ہے بھلا سوچ تو سہی
انسان بن گیا ہے خدا سوچ تو سہی
کیوں دیکھ کر غبار کو گھٹنے لگا ہے دم
کیوں بند ہو گئی ہے ہوا سوچ تو سہی
گل سے مہک اڑے تو دماغوں میں جا بسے
نسبت شرر کو خاک سے کیا سوچ تو سہی
دل کی طرح چھتوں کی منڈیریں اداس ہیں
ہے کس کی منتظر یہ فضا سوچ تو سہی
کھڑکی سے جھانکتا ہے وہ شعلہ مگر خلیلؔ
بستی دھواں دھواں ہے ذرا سوچ تو سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.