Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وطن میں ہم کو غریب الدیار کہتے ہیں

شاد عارفی

وطن میں ہم کو غریب الدیار کہتے ہیں

شاد عارفی

MORE BYشاد عارفی

    وطن میں ہم کو غریب الدیار کہتے ہیں

    اسی کو حادثۂ روزگار کہتے ہیں

    تجوریوں کو حکومت شکار کہتے ہیں

    یہ بات ہم نہیں سرمایہ دار کہتے ہیں

    کسی کے حسن سماعت پہ چوٹ کرنے کو

    فسانۂ غم دل بار بار کہتے ہیں

    جو دشمنوں کے اشاروں پہ رقص کرتے ہیں

    انہیں کو اصل میں ذی اختیار کہتے ہیں

    جہاں خزاں کی حدوں کا گمان ہوتا ہے

    پہنچ گئی ہے وہاں تک بہار کہتے ہیں

    نہیں کچھ اپنی طرف سے یہ انقلاب کا ذکر

    وہ کہہ رہے ہیں جو لیل و نہار کہتے ہیں

    وہ انقلاب کا رستہ نہ دیکھتے ہوں کہیں

    جو داستان شب انتظار کہتے ہیں

    جناب شیخ سیاست کے پھیر میں پڑ کر

    بتان دیر کو پروردگار کہتے ہیں

    عجب نہیں جو زر نقد بھی گنوا دیں شادؔ

    یہ لکھ پتی کہ جنہیں سود خوار کہتے ہیں

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے