وطن میں ہم کو غریب الدیار کہتے ہیں
وطن میں ہم کو غریب الدیار کہتے ہیں
اسی کو حادثۂ روزگار کہتے ہیں
تجوریوں کو حکومت شکار کہتے ہیں
یہ بات ہم نہیں سرمایہ دار کہتے ہیں
کسی کے حسن سماعت پہ چوٹ کرنے کو
فسانۂ غم دل بار بار کہتے ہیں
جو دشمنوں کے اشاروں پہ رقص کرتے ہیں
انہیں کو اصل میں ذی اختیار کہتے ہیں
جہاں خزاں کی حدوں کا گمان ہوتا ہے
پہنچ گئی ہے وہاں تک بہار کہتے ہیں
نہیں کچھ اپنی طرف سے یہ انقلاب کا ذکر
وہ کہہ رہے ہیں جو لیل و نہار کہتے ہیں
وہ انقلاب کا رستہ نہ دیکھتے ہوں کہیں
جو داستان شب انتظار کہتے ہیں
جناب شیخ سیاست کے پھیر میں پڑ کر
بتان دیر کو پروردگار کہتے ہیں
عجب نہیں جو زر نقد بھی گنوا دیں شادؔ
یہ لکھ پتی کہ جنہیں سود خوار کہتے ہیں
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.