مجھے نہ دیکھ ترا انتخاب میں ہی ہوں
مجھے نہ دیکھ ترا انتخاب میں ہی ہوں
ترے وجود کی روشن کتاب میں ہی ہوں
جسے پڑھا نہ گیا اور کبھی سنا نہ گیا
اسی کتاب کا بکھرا سا باب میں ہی ہوں
مجھے نہ سوچ شب ہجر کی اداسی میں
گزرتی رات کا ٹوٹا سا خواب میں ہی ہوں
جو میری دید میں ٹپکا ہے موتیوں کی طرح
وہ تیری آنکھوں کا شفاف آب میں ہی ہوں
مرے لہو کی حرارت سے برف پگھلی ہے
میں جانتا ہوں پس انقلاب میں ہی ہوں
تری یہ زلف ملائم سے آئے گی خوشبو
سجا لے جوڑے میں تازہ گلاب میں ہی ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.