Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھے نہ دیکھ ترا انتخاب میں ہی ہوں

حبیب ندیم

مجھے نہ دیکھ ترا انتخاب میں ہی ہوں

حبیب ندیم

MORE BYحبیب ندیم

    مجھے نہ دیکھ ترا انتخاب میں ہی ہوں

    ترے وجود کی روشن کتاب میں ہی ہوں

    جسے پڑھا نہ گیا اور کبھی سنا نہ گیا

    اسی کتاب کا بکھرا سا باب میں ہی ہوں

    مجھے نہ سوچ شب ہجر کی اداسی میں

    گزرتی رات کا ٹوٹا سا خواب میں ہی ہوں

    جو میری دید میں ٹپکا ہے موتیوں کی طرح

    وہ تیری آنکھوں کا شفاف آب میں ہی ہوں

    مرے لہو کی حرارت سے برف پگھلی ہے

    میں جانتا ہوں پس انقلاب میں ہی ہوں

    تری یہ زلف ملائم سے آئے گی خوشبو

    سجا لے جوڑے میں تازہ گلاب میں ہی ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے