میں اپنی صدی کی غزل لکھ رہا ہوں
میں اپنی صدی کی غزل لکھ رہا ہوں
ہر اک مسئلے کا میں حل لکھ رہا ہوں
مری حق پرستی کا ہے یہ تقاضا
صدی کو صدی پل کو پل لکھ رہا ہوں
ہے کس سوچ میں وقت اندازہ کیجے
کہ میں اس کے ماتھے کا بل لکھ رہا ہوں
مری آرزو ہے مرا خواب ہے یہ
جو کٹیا کو بھی میں محل لکھ رہا ہوں
فسانہ عزیز آج امن و اماں کا
بعنوان جنگ و جدل لکھ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.