ہوا کا راستہ دشوار کر دیا جائے
ہوا کا راستہ دشوار کر دیا جائے
دیوں کو یا تو خبردار کر دیا جائے
زمیں نہیں تو فلک دار کر دیا جائے
ہمیں کہیں کا تو حق دار کر دیا جائے
بچی ہے ایک ہی صورت شجر بچانے کی
ہر ایک شاخ کو تلوار کر دیا جائے
سروں پہ آ گئے اب سر اتارنے والے
امیر شہر کو ہشیار کر دیا جائے
تمہارے جیسے مسیحا کی دیکھ ریکھ میں تو
مریض چاہے گا بیمار کر دیا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.