Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غزل کو فکر ایسی دو کہ ہر محفل تڑپ اٹھے

ظفر مرزاپوری

غزل کو فکر ایسی دو کہ ہر محفل تڑپ اٹھے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    غزل کو فکر ایسی دو کہ ہر محفل تڑپ اٹھے

    ترے اشعار سن کر میرؔ کا بھی دل تڑپ اٹھے

    یہ آداب سفر کی دین کی خوبی ذرا دیکھو

    اگر راہی رکے رستے میں تو منزل تڑپ اٹھے

    کبھی کشتی نہ ڈوبے گی اگر ایسی محبت ہو

    ادھر کشتی بھنور میں ہو ادھر ساحل تڑپ اٹھے

    ہماری زندگی کو بھی میسر وہ مقام آتا

    کبھی ماضی سے میں کھیلوں تو مستقبل تڑپ اٹھے

    تری بھی فکر دنیا سے کچھ ایسی بات کہہ جائے

    کوئی گیانی تڑپ اٹھے کوئی قابل تڑپ اٹھے

    کچھ اس انداز سے یہ جان بھی جائے تو بہتر ہے

    ہمارے حوصلوں کے وار سے قاتل تڑپ اٹھے

    ظفرؔ سمجھوں گا میرے شعر کی یہ کامیابی ہے

    ترے ماتھے کی بندیا کی اگر جھلمل تڑپ اٹھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے