غزل کو فکر ایسی دو کہ ہر محفل تڑپ اٹھے
غزل کو فکر ایسی دو کہ ہر محفل تڑپ اٹھے
ترے اشعار سن کر میرؔ کا بھی دل تڑپ اٹھے
یہ آداب سفر کی دین کی خوبی ذرا دیکھو
اگر راہی رکے رستے میں تو منزل تڑپ اٹھے
کبھی کشتی نہ ڈوبے گی اگر ایسی محبت ہو
ادھر کشتی بھنور میں ہو ادھر ساحل تڑپ اٹھے
ہماری زندگی کو بھی میسر وہ مقام آتا
کبھی ماضی سے میں کھیلوں تو مستقبل تڑپ اٹھے
تری بھی فکر دنیا سے کچھ ایسی بات کہہ جائے
کوئی گیانی تڑپ اٹھے کوئی قابل تڑپ اٹھے
کچھ اس انداز سے یہ جان بھی جائے تو بہتر ہے
ہمارے حوصلوں کے وار سے قاتل تڑپ اٹھے
ظفرؔ سمجھوں گا میرے شعر کی یہ کامیابی ہے
ترے ماتھے کی بندیا کی اگر جھلمل تڑپ اٹھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.