ایسا بھی انقلاب کسی روز کاش ہو
ایسا بھی انقلاب کسی روز کاش ہو
غربت زدوں کو دولت و زر کی تلاش ہو
ہے فکر کہ اب ایسی جگہ بود و باش ہو
ان کو ملوں نہ میں مری گھر گھر تلاش ہو
جو میرے دل میں ہے وہ ترے دل میں کاش ہو
بن جائے بات اور کسی پر نہ فاش ہو
بیمار غم کو دیکھ کے منہ بن گیا ہے کیوں
کیا چاہتے ہو تم کہ وہ صاحب فراش ہو
واعظ سنیں گے ہم تری باتوں کو غور سے
لہجہ اگر ترا نہ سماعت خراش ہو
اترے اثر دعا میں ذرا احتیاط سے
گر کر زمین پر نہ کہیں پاش پاش ہو
ہم آئے ہیں عدم سے ہی لیکن نہیں قبول
دوبارہ پھر ہماری وہاں بود و باش ہو
گونگے بتوں کے سامنے گونگا وہ خود بھی ہے
آذر ہو یا کہ اور کوئی بت تراش ہو
جو ہیں برے وہ کچھ بھی نہیں اس کے سامنے
پردے میں رکھ رکھاؤ کے جو بد قماش ہو
خطرہ ہے اس سے بڑھتی ہوئی عمر کے لئے
ہلکا بھی ہاتھ پاؤں میں گر ارتعاش ہو
بچنا زمیں کی بھوک سے ممکن نہیں عدیلؔ
تابوت آہنی میں بھی گر کوئی لاش ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.