Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں

اطیب انور ساحل

ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں

اطیب انور ساحل

MORE BYاطیب انور ساحل

    ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں

    غم جہاں کا کہیں بھی کوئی حساب نہیں

    وفا کی راہ میں کانٹے ہی ہم کو راس آئے

    ہمارے بخت میں گویا کوئی گلاب نہیں

    ضمیر بیچ کے حاصل کیا جو تخت و تاج

    سکون قلب کا اس میں کوئی نصاب نہیں

    امیر شہر کے محلوں میں جشن جاری ہے

    غریب شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں

    زمانہ پوچھتا ہے مجھ سے داستان الم

    مگر یہ دکھ ہے کہ یہ لائق خطاب نہیں

    نچوڑ لائے ہیں ہستی کا ہم تو رس سارا

    غم حیات ترا ذائقہ خراب نہیں

    عجیب رنگ ہے اس دور خود پرستی کا

    سوال وہ ہیں کہ جن کا کوئی جواب نہیں

    کریدتے ہو جو تم دوسروں کے عیب و ہنر

    تمہارے پاس میں خود کا کوئی حساب نہیں

    جو بوجھ سر پہ ہے وہ ہم ہی جانتے ہیں بس

    غم معاش کا اس دور میں حساب نہیں

    ہر ایک موڑ پہ دستک ہے اجنبی غم کی

    حیات وہ ہے جو ہرگز سکوں کا باب نہیں

    تمہاری بزم میں ہم بھی تو آئے تھے لیکن

    ہمارے واسطے کیوں گردش شباب نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے