ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں
ستم کی دھوپ ہے یادوں کا ماہتاب نہیں
غم جہاں کا کہیں بھی کوئی حساب نہیں
وفا کی راہ میں کانٹے ہی ہم کو راس آئے
ہمارے بخت میں گویا کوئی گلاب نہیں
ضمیر بیچ کے حاصل کیا جو تخت و تاج
سکون قلب کا اس میں کوئی نصاب نہیں
امیر شہر کے محلوں میں جشن جاری ہے
غریب شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
زمانہ پوچھتا ہے مجھ سے داستان الم
مگر یہ دکھ ہے کہ یہ لائق خطاب نہیں
نچوڑ لائے ہیں ہستی کا ہم تو رس سارا
غم حیات ترا ذائقہ خراب نہیں
عجیب رنگ ہے اس دور خود پرستی کا
سوال وہ ہیں کہ جن کا کوئی جواب نہیں
کریدتے ہو جو تم دوسروں کے عیب و ہنر
تمہارے پاس میں خود کا کوئی حساب نہیں
جو بوجھ سر پہ ہے وہ ہم ہی جانتے ہیں بس
غم معاش کا اس دور میں حساب نہیں
ہر ایک موڑ پہ دستک ہے اجنبی غم کی
حیات وہ ہے جو ہرگز سکوں کا باب نہیں
تمہاری بزم میں ہم بھی تو آئے تھے لیکن
ہمارے واسطے کیوں گردش شباب نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.