زندہ تو جسم ہے بھلے وجدان مر گیا
زندہ تو جسم ہے بھلے وجدان مر گیا
انسان ڈھونڈتے ہوئے انسان مر گیا
بیچا ضمیر اور خریدا مقام دہر
دولت تو مل گئی ولے ایمان مر گیا
ہر موڑ پر امید کا ساماں بکھر گیا
جینے کی آرزو میں ہی انسان مر گیا
ہر شخص اپنی ذات کے اندر ہی قید تھا
دست طلب بڑھا ہی تھا احسان مر گیا
منصب کی ایک چاہ نے ایسا بدل دیا
کرسی تو رہ گئی بھلے ایوان مر گیا
نفرت کی آگ پھیل گئی بستیوں کے بیچ
الجھا جو ان شراروں سے نادان مر گیا
جب سے انا نے دل کی حکومت سنبھالی ہے
دل میں وفا کا آخری امکان مر گیا
وہ مسکرا کے آج بھی خاموش ہی رہا
کھولا جو اس نے در تو مرا مان مر گیا
آنکھوں کی بے نیازی نے دل کر دیا فگار
نظریں ملیں کچھ ایسے کہ ارمان مر گیا
سچ بولنے کے جرم میں تنہا کھڑی رہی
باطل کے شور میں مرا اعلان مر گیا
عنبرؔ لکھا جو سچ وہ تھا ہر دور کے لیے
لفظوں کا قد رہا بھلے سلطان مر گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.