ٹھوکر ملی وفا پہ ہر اک آن دوستا
ٹھوکر ملی وفا پہ ہر اک آن دوستا
ہم نے وفا کو جانا تھا ایمان دوستا
ہم نے ہر ایک رشتہ نبھایا خلوص سے
ملتا رہا جواب میں نقصان دوستا
جلتی رہی ضمیر کی قندیل ہر گھڑی
لیکن نہ چھوڑ پایا یہ وجدان دوستا
اک لمس مہربان نے بدلا مرا جہاں
یوں کھل گیا ہو جیسے گلستان دوستا
ہر حرف میں جھلک ہے ترے حسن کی صنم
ہر لفظ میں چھپی ہے مری جان دوستا
میں اب بتاؤں گا دل نادان کی خلش
تقدیر نے لکھا ہے یہ عنوان دوستا
ہم کو علیؔ خدا نے عطا کی ہے یہ نوا
اشعار سے ملی ہے یہ پہچان دوستا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.