جائیے الزام کی تفصیل لے کر آئیے
جائیے الزام کی تفصیل لے کر آئیے
ان کہے دشنام کی زنبیل لے کر آئیے
راج ہے تیرہ شبی کا وادیٔ گلنار میں
ہو سکے تو حسن کی قندیل لے کر آئیے
کس کا ہے کتنا خسارہ فیصلہ ہو جائے گا
ہجر کے لمحات کی تفصیل لے کر آئیے
آپ نے کیسے محبت کو گرایا سوچئے
لفظ ہے چھوٹا تو پھر تمثیل لے کر آئیے
استغاثہ قتل کا ہے جان چھٹنے کی نہیں
ہر ستم کی آپ اب تاویل لے کر آئیے
ہم نے مانا درد کا الزام ہم پر ہی سہی
ایسا ہے تو درد کی تحویل لے کر آئیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.