ابھار لے گئے جھونکے تری عطا کے ہمیں
ابھار لے گئے جھونکے تری عطا کے ہمیں
کہ خاک آتے تھے آداب التجا کے ہمیں
بہت ہماری خموشی پہ معترض تھے مگر
خموش ہو گئے احباب آزما کے ہمیں
خدا کا نام پکاریں اچھال دیں کشتی
کہ ٹکنے دیتے نہیں طور ناخدا کے ہمیں
ہماری یاد سے روشن تھے جن کے شام و سحر
بہت سکون سے بیٹھے ہیں اب بھلا کے ہمیں
یہ کیا کہ اور امڈ آئی تیرگی کی گھٹا
یہ کیا کہ تم بھی نہ روشن ہوئے بجھا کے ہمیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.