اپنی عزت بچا خدا کے لئے
اپنی عزت بچا خدا کے لئے
مرے خط کو چھپا خدا کے لئے
کھڑکیاں کھول دو مرے گھر کی
آنے دو کچھ ہوا خدا کے لئے
روک رکھا ہے کیوں بنا مقصد
جرم میرا بتا خدا کے لئے
ہاتھ باندھے سوال ہے یہ مرا
ختم ہوگی سزا خدا کے لئے
اب محبت قبول کر لے مری
یوں نہ دل کو جلا خدا کے لئے
سرد راتیں ہیں اور دسمبر بھی
کر نہ دینا خطا خدا کے لئے
پیار قیصرؔ کا بس ملے مجھ کو
دینا ایسی دعا خدا کے لئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.