ہوتے ہیں وہی علم کے درجے میں سمندر
ہوتے ہیں وہی علم کے درجے میں سمندر
آتا ہے سمونا جنہیں کوزے میں سمندر
اک روز پڑھانے سے معلم نہیں بنتے
بنتا ہے سمندر بھی تو عرصے میں سمندر
پیاسے کو بھی لذت کی پڑی ہے یہ ستم ہے
اب کیا کرے بتلائیے ایسے میں سمندر
اب چھین کے بھی خوش نہیں تالاب وہ ہم سے
قسمت سے ہمیں مل گیا بدلے میں سمندر
مشکل میں بھی کچھ ہو تو وہ بد حال لگے گا
آباد ہے جس کے بھی محلے میں سمندر
جب نکلے تمنا لئے ہم ایک ندی کی
پھر رکتے نہیں دیکھ کے رستے میں سمندر
پانی کے بھی شہرت کے تقاضے ہیں جدا سب
میٹھے میں ندی نہر ہیں کھارے میں سمندر
گوہرؔ کی محبت میں کوئی ڈوب نہ جائے
رہتا ہے اسی بات کے خدشے میں سمندر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.