Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہوتے ہیں وہی علم کے درجے میں سمندر

معین گوہر

ہوتے ہیں وہی علم کے درجے میں سمندر

معین گوہر

MORE BYمعین گوہر

    ہوتے ہیں وہی علم کے درجے میں سمندر

    آتا ہے سمونا جنہیں کوزے میں سمندر

    اک روز پڑھانے سے معلم نہیں بنتے

    بنتا ہے سمندر بھی تو عرصے میں سمندر

    پیاسے کو بھی لذت کی پڑی ہے یہ ستم ہے

    اب کیا کرے بتلائیے ایسے میں سمندر

    اب چھین کے بھی خوش نہیں تالاب وہ ہم سے

    قسمت سے ہمیں مل گیا بدلے میں سمندر

    مشکل میں بھی کچھ ہو تو وہ بد حال لگے گا

    آباد ہے جس کے بھی محلے میں سمندر

    جب نکلے تمنا لئے ہم ایک ندی کی

    پھر رکتے نہیں دیکھ کے رستے میں سمندر

    پانی کے بھی شہرت کے تقاضے ہیں جدا سب

    میٹھے میں ندی نہر ہیں کھارے میں سمندر

    گوہرؔ کی محبت میں کوئی ڈوب نہ جائے

    رہتا ہے اسی بات کے خدشے میں سمندر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے