ذرا سی دیر کو ہم کیا شرافت پر اتر آئے
ذرا سی دیر کو ہم کیا شرافت پر اتر آئے
یہ بزدل لوگ بھی ہم سے بغاوت پر اتر آئے
مجھے برباد کرنے کی رہیں جب سازشیں ناکام
مرے دشمن مجھی سے پھر محبت پر اتر آئے
تعلق ختم ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
میں اتنا چاہتا ہوں وہ شکایت پر اتر آئے
تری تصویر بھی ہوتی تو کچھ دن کام چل جاتا
یونہی تھوڑی نہ ہم کافر عبادت پر اتر آئے
اذیت میں بھی وہ دامن اسی خاطر نہیں چھوڑا
کبھی شاید وہ خوش ہو کر عنایت پر اتر آئے
زیادہ بھی ملاقاتیں نہیں اچھی کسے معلوم
محبت کب بدن کی پھر ضرورت پر اتر آئے
میاں اب شاعری چھوڑو کمانے کا بھی کچھ سوچو
کہیں ایسا نہ ہو محبوب دولت پر اتر آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.