محبت کر کے دیکھو نا محبت کس کو کہتے ہیں
محبت کر کے دیکھو نا محبت کس کو کہتے ہیں
سمجھ آئے گا پھر تم کو اذیت کس کو کہتے ہیں
یہ خاموشی یہ بے چینی اداسی اور یہ تنہائی
شکایت یہ نہیں تو پھر شکایت کس کو کہتے ہیں
نہ ہم واعظ نہ ذاکر ہیں مصور ہیں نہ زاہد ہیں
ہمیں معلوم کیسے ہو حقیقت کس کو کہتے ہیں
بھلے کٹ جائے سر لیکن نہ چھوٹے ایک سجدہ بھی
سکھایا آپ نے ہم کو عبادت کس کو کہتے ہیں
پڑھو گے فاتح خیبر کی تم تاریخ گر جا کر
کھلے گا راز تم پر پھر شجاعت کس کو کہتے ہیں
کبھی پردہ اٹھا دے رخ سے گر وہ ماہ رو اپنے
زمانہ جان جائے گا قیامت کس کو کہتے ہیں
یہ کل کے نوجواں لڑکے نہ ہے پاس وفا جن کو
ہمیں اب یہ بتائیں گے محبت کس کو کہتے ہیں
جہاں اپنوں کے مدفن ہوں وطن وہ چھوڑ کر جانا
تمہیں مشتاقؔ کیا معلوم ہجرت کس کو کہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.