مٹی تھا کس نے چاک پہ رکھ کر گھما دیا
مٹی تھا کس نے چاک پہ رکھ کر گھما دیا
وہ کون ہاتھ تھے کہ جو چاہا بنا دیا
جو اب تلک چھپائے تھی کمرے کی روشنی
رستوں کی تیرگی نے وہ سب کچھ دکھا دیا
پریوں کے دیس والی کہانی بھی خوب ہے
بچوں کو جس نے پھر یونہی بھوکا سلا دیا
اب اور کیا تلاش ہے کیوں دیدہ ریز ہو
مٹی میں بس وہی تھا جو تم نے اگا دیا
کچھ اژدہے سے ریت پہ کچھ بند سیپیاں
ساحل کو لوٹتی ہوئی لہروں نے کیا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.