Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر نقش میں مو قلم کے انداز دل خون میں تر نہیں نکلتے

اقبال کوثر

ہر نقش میں مو قلم کے انداز دل خون میں تر نہیں نکلتے

اقبال کوثر

MORE BYاقبال کوثر

    ہر نقش میں مو قلم کے انداز دل خون میں تر نہیں نکلتے

    فنکار ہے دست کار جب تک اندر سے ہنر نہیں نکلتے

    ہر شکل میں کتنے وصف بھی ہیں ہر نقش میں کوئی نقص بھی ہے

    شیشے کی صفا میں عکس بھی ہے چیزوں سے اثر نہیں نکلتے

    اجسام حس نمو سے محروم گہرائی خاک میں گڑے ہیں

    گو یہ بھی درخت سے کھڑے ہیں کھمبوں سے ثمر نہیں نکلتے

    گو ہم میں ہے ذوق کا سبھی کچھ یہ کیا کبھی کچھ ہیں ہم کبھی کچھ

    اک شوق گلے لگائیں ایسا جس طوق سے سر نہیں نکلتے

    نایاب اگر ہیں درد اپنے ذخار بھی کوئی خود میں ڈھونڈیں

    ڈوبیں تو سمندروں میں ڈوبیں ڈھابوں سے گہر نہیں نکلتے

    کنکر بھی اگر گرائے کوئی کوثرؔ نہ گراؤ زندگی کو

    پتھر بھی بناؤ زندگی کو مٹی سے شرر نہیں نکلتے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے