ہر نقش میں مو قلم کے انداز دل خون میں تر نہیں نکلتے
ہر نقش میں مو قلم کے انداز دل خون میں تر نہیں نکلتے
فنکار ہے دست کار جب تک اندر سے ہنر نہیں نکلتے
ہر شکل میں کتنے وصف بھی ہیں ہر نقش میں کوئی نقص بھی ہے
شیشے کی صفا میں عکس بھی ہے چیزوں سے اثر نہیں نکلتے
اجسام حس نمو سے محروم گہرائی خاک میں گڑے ہیں
گو یہ بھی درخت سے کھڑے ہیں کھمبوں سے ثمر نہیں نکلتے
گو ہم میں ہے ذوق کا سبھی کچھ یہ کیا کبھی کچھ ہیں ہم کبھی کچھ
اک شوق گلے لگائیں ایسا جس طوق سے سر نہیں نکلتے
نایاب اگر ہیں درد اپنے ذخار بھی کوئی خود میں ڈھونڈیں
ڈوبیں تو سمندروں میں ڈوبیں ڈھابوں سے گہر نہیں نکلتے
کنکر بھی اگر گرائے کوئی کوثرؔ نہ گراؤ زندگی کو
پتھر بھی بناؤ زندگی کو مٹی سے شرر نہیں نکلتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.