یہ کیا بھری بہار میں صحن چمن سے دور
یہ کیا بھری بہار میں صحن چمن سے دور
میں جی رہا ہوں دوست تری انجمن سے دور
بجلی کا خوف ہوگا نہ صیاد کا ہراس
میں آشیاں بناؤں گا صحن چمن سے دور
اس قید صبح و شام سے گھبرا گیا ہے جی
اے عشق چل کہیں بھی نظام کہن سے دور
ہے نخل آرزو مرا اب تک خزاں نصیب
گر آئی بھی بہار تو میرے چمن سے دور
ہمراز ہے کوئی نہ مرا ہم زباں کوئی
ہندیؔ تو ہے وطن میں مگر ہے وطن سے دور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.