نہ میں ہوں یہاں اب نہ تیرا نشاں ہے
نہ میں ہوں یہاں اب نہ تیرا نشاں ہے
فقط رنج ہجراں فقط اک فغاں ہے
ہر اک شخص چہرے پہ پہرے لگائے
یہ کیسی عدالت یہ کیسا سماں ہے
وفاؤں کا بدلہ یہاں بے وفائی
عجب رسم دنیا عجب کارواں ہے
کبھی گھر جلا اور کبھی خواب بکھرے
ستم ہی ستم ہے سزا ہی یہاں ہے
مرے درد کا کوئی درماں نہیں ہے
فقط اپنی ہستی میں اپنی ہی جاں ہے
غریبوں کے لب پر تو بس اک دعا ہے
امیروں کی جیبوں میں سارا جہاں ہے
غزل ہم تو بس کہہ رہے ہیں یونہی اب
جو دل میں ہے پوشیدہ وہ تو نہاں ہے
بلالؔ اب تو ہر سو ہے نفرت کا عالم
محبت کا قصہ کہاں اب بیاں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.