بے گھر ہوا ہے کس لئے تو گھر سے نکل کر
بے گھر ہوا ہے کس لئے تو گھر سے نکل کر
یہ سوچ مگر سوچ کے اندر سے نکل کر
کس کس کو نوازے گی یہی دیکھنا ہے اب
اک روشنی پھیلی تو ہے پتھر سے نکل کر
اس پار بھی کیا کوئی اجالوں کا نگر ہے
وہ شخص ادھر جاتا ہے کیوں گھر سے نکل کر
حالات کی موجوں کا نہیں کوئی بھروسہ
ساحل پہ نہ یوں بیٹھ سمندر سے نکل کر
خدشات کی فوجیں تری راہوں میں کھڑی ہیں
جائے گا کہاں لمحوں کے لشکر سے نکل کر
آواز پہ مت زور دے یہ شہر ہے گونگا
احساس کا در کھول دے بستر سے نکل کر
کل رات مرے ساتھ بہت دیر تلک تھا
اک سایہ تری یاد کے پیکر سے نکل کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.