Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے گھر ہوا ہے کس لئے تو گھر سے نکل کر

ایمن جعفری

بے گھر ہوا ہے کس لئے تو گھر سے نکل کر

ایمن جعفری

MORE BYایمن جعفری

    بے گھر ہوا ہے کس لئے تو گھر سے نکل کر

    یہ سوچ مگر سوچ کے اندر سے نکل کر

    کس کس کو نوازے گی یہی دیکھنا ہے اب

    اک روشنی پھیلی تو ہے پتھر سے نکل کر

    اس پار بھی کیا کوئی اجالوں کا نگر ہے

    وہ شخص ادھر جاتا ہے کیوں گھر سے نکل کر

    حالات کی موجوں کا نہیں کوئی بھروسہ

    ساحل پہ نہ یوں بیٹھ سمندر سے نکل کر

    خدشات کی فوجیں تری راہوں میں کھڑی ہیں

    جائے گا کہاں لمحوں کے لشکر سے نکل کر

    آواز پہ مت زور دے یہ شہر ہے گونگا

    احساس کا در کھول دے بستر سے نکل کر

    کل رات مرے ساتھ بہت دیر تلک تھا

    اک سایہ تری یاد کے پیکر سے نکل کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے