یوں اس نے اپنی چاہ کا محور بدل دیا
یوں اس نے اپنی چاہ کا محور بدل دیا
جیسے مرا مقام ہی یکسر بدل دیا
اس نے کہا کہ تم سے محبت ہے آج بھی
اور اس کے بعد فون کا نمبر بدل دیا
تم پر نہ جانے ہجر کا کتنا ہوا اثر
میرے لیے تو تم نے کلنڈر بدل دیا
ہونے سے اس کے تھی مرے چہرے پہ تازگی
پھر اس نے میرا رنگ بچھڑ کر بدل دیا
جس روز وہ ملا تھا بدل سا گیا تھا میں
اور جا کے اس نے مجھ کو مکرر بدل دیا
عدنانؔ کچھ نہ مجھ میں بچا یعنی وقت نے
باہر بدل دیا مرا اندر بدل دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.