اٹھی بدلی گھٹا چھائی عجب موسم ہوا دل کا
اٹھی بدلی گھٹا چھائی عجب موسم ہوا دل کا
کہیں تر ہو نہ جائے پھر ذرا دامن بچا دل کا
محبت کی کتابوں میں دسمبر بھی ہے اب شامل
سناتی ہے ہمیں بارش فسانہ بے وفا دل کا
سدا سے ہجر کا موسم رہا ہے شہر میں اپنے
ہوا کا ہر چلن بھی بے سبب دشمن رہا دل کا
عنایت تھی انہی کی جو انھوں نے رابطہ رکھا
ہوا کیا پھر خدا جانے کہ ٹوٹا سلسلہ دل کا
مری قسمت کا تارا عمر بھر گردش کی زد میں تھا
ابھرنا تھا جہاں جا کر وہیں سورج ڈھلا دل کا
ہوا ہے اب خیال و خواب برگ و بار کا موسم
خزاؤں نے جلا ڈالا ہے ہر پتا ہرا دل کا
سنہری دھوپ سی آنکھوں کا ڈھلنا ڈوبنا دیکھا
عذاب دید تھا منظر دیا جس دم بجھا دل کا
کہانی ختم ہو جاتی کسی انجام سے پہلے
بتا دیتے اگر جاناں تمہیں جو حال تھا دل کا
زمانے سے الگ ہوں میں تو اس میں کیا خطا میری
کھٹکتا ہے وہی سب کو جو ہو سچا کھرا دل کا
محبت کے سفر میں ہم دوانے ایسے تھے صولتؔ
جلا دیں کشتیاں ساری چلا جو قافلہ دل کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.