Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اٹھی بدلی گھٹا چھائی عجب موسم ہوا دل کا

صولت بانو

اٹھی بدلی گھٹا چھائی عجب موسم ہوا دل کا

صولت بانو

MORE BYصولت بانو

    اٹھی بدلی گھٹا چھائی عجب موسم ہوا دل کا

    کہیں تر ہو نہ جائے پھر ذرا دامن بچا دل کا

    محبت کی کتابوں میں دسمبر بھی ہے اب شامل

    سناتی ہے ہمیں بارش فسانہ بے وفا دل کا

    سدا سے ہجر کا موسم رہا ہے شہر میں اپنے

    ہوا کا ہر چلن بھی بے سبب دشمن رہا دل کا

    عنایت تھی انہی کی جو انھوں نے رابطہ رکھا

    ہوا کیا پھر خدا جانے کہ ٹوٹا سلسلہ دل کا

    مری قسمت کا تارا عمر بھر گردش کی زد میں تھا

    ابھرنا تھا جہاں جا کر وہیں سورج ڈھلا دل کا

    ہوا ہے اب خیال و خواب برگ و بار کا موسم

    خزاؤں نے جلا ڈالا ہے ہر پتا ہرا دل کا

    سنہری دھوپ سی آنکھوں کا ڈھلنا ڈوبنا دیکھا

    عذاب دید تھا منظر دیا جس دم بجھا دل کا

    کہانی ختم ہو جاتی کسی انجام سے پہلے

    بتا دیتے اگر جاناں تمہیں جو حال تھا دل کا

    زمانے سے الگ ہوں میں تو اس میں کیا خطا میری

    کھٹکتا ہے وہی سب کو جو ہو سچا کھرا دل کا

    محبت کے سفر میں ہم دوانے ایسے تھے صولتؔ

    جلا دیں کشتیاں ساری چلا جو قافلہ دل کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے