Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس سے امید رو نمائی ہے

رمق فتحپوری

اس سے امید رو نمائی ہے

رمق فتحپوری

MORE BYرمق فتحپوری

    اس سے امید رو نمائی ہے

    وہ کہ جو شکل کبریائی ہے

    تم نے اے کشتۂ نظارۂ طور

    موت بھی کیا حسین پائی ہے

    جان کر تم سے دل لگایا ہے

    ہاں ہمیں شوق خود فنائی ہے

    زندگی کو تمہاری فرقت میں

    لمحہ لمحہ پہ موت آئی ہے

    کچھ مرے دل کا بھی قصور ہے اور

    کچھ تمہاری بھی دلربائی ہے

    نہ انہوں نے نقاب الٹی ہے

    نہ تو یہ آنکھ باز آئی ہے

    ہر جگہ بھی ہے اور ہے بھی ۔۔۔نہیں

    اس کا یہ بھی ہنر خدائی ہے

    تیرے آنے سے باغ عالم میں

    قبل موسم بہار آئی ہے

    تم کو میں تو خدا نہیں کہتا

    یہ زباں ہے جو لڑکھڑائی ہے

    قبر پر ہے رمقؔ کی یہ کندہ

    تم نہ آئے تو موت آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے