تیری دوری نے مجھے روگ لگا رکھا ہے
تیری دوری نے مجھے روگ لگا رکھا ہے
چاند کو اب مری آنکھوں نے جلا رکھا ہے
دل کو لگتا ہے کہ وہ آج بھی آئے گا ضرور
ہم نے ہر شے کو اسی طرح سجا رکھا ہے
ہم کو معلوم تھا دنیا کی عداوت کا چلن
اس لیے ہم نے ترا نام چھپا رکھا ہے
تو تو ہر حال میں ہی جان سے پیارا نکلا
جس نے نفرت کا بھی معیار بڑھا رکھا ہے
یہی انجام ہے اس عشق کی قربت کا یہاں
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
شہر میں آج بھی وہ شخص بہت تنہا ہے
جس نے دولت سے بہت نام کما رکھا ہے
اب کوئی راہ نجات اس سے نہیں بنتی ہے
جس نے دنیا کی محبت کو سزا رکھا ہے
آج تک دل سے نہیں کوئی دعا نکلی ہے
ہم نے ہر بات کو ہونٹوں میں دبا رکھا ہے
چاہے دنیا مجھے دیکھے نہ کبھی اچھے سے
میں نے ہر شخص کو سینے سے لگا رکھا ہے
کون کہتا ہے کہ تنہا ہوں میں اس دنیا میں
تیری یادوں نے تو میلہ سا سجا رکھا ہے
ظرف دیکھا ہے مری تشنہ لبی کا تم نے
میں نے صحرا کو بھی آنکھوں میں بسا رکھا ہے
موج طوفان سے ڈرنا تو مقدر ہے مرا
میں نے کشتی کو بھی منجدھار میں لا رکھا ہے
جس کی تعبیر میسر ہی نہیں ہے ہم کو
ایسا اک خواب نگاہوں میں سجا رکھا ہے
خاک ہونا ہی مقدر ہے تو پھر ڈرنا کیا
ہم نے ساحلؔ یہی مٹی کو بتا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.