شکستہ خواب کی صورت گزاری زندگی ہم نے
شکستہ خواب کی صورت گزاری زندگی ہم نے
نہ جینے کی خوشی پائی نہ ماری زندگی ہم نے
ترا ملنا نہ ملنا خیر یہ تو بخت کی شے تھی
مگر خود سے بہت ہاری ہے ہاری زندگی ہم نے
جہاں ہر موڑ پر اک مصلحت دیوار بنتی تھی
وہاں سے بھی نکالی تھی ہماری زندگی ہم نے
بڑی بے زار سی تہذیب گندے لوگ جھوٹے قد
عجب دوزخ میں اے جاناں گزاری زندگی ہم نے
سنا ہے حشر میں ہوگا حساب عمر لا حاصل
تو کہہ دیں گے کہ لائے تھے ادھاری زندگی ہم نے
ہزاروں وسوسوں کے درمیاں اک نام کی خاطر
بڑی وحشت میں تھوڑی سی گزاری زندگی ہم نے
کبھی خود کو جلا ڈالا کبھی پندار ہستی میں
بڑی مشکل سے لمحوں میں اتاری زندگی ہم نے
ہمارے ہجر کا قصہ سنیں تو روح کانپ اٹھے
بڑے ہی خونی منظر میں گزاری زندگی ہم نے
یہاں تو اپنے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا ہم کو
کچھ اس درجہ اکیلے میں گزاری زندگی ہم نے
ہمیں تو یاد بھی اب ٹھیک سے آتا نہیں کچھ بھی
بس اک دھندلی سی حالت میں گزاری زندگی ہم نے
تمہاری یاد کی بھٹی مری سانسوں کا یہ ایندھن
اسی تپتے ہوئے دکھ میں اتاری زندگی ہم نے
ہمارے حال پر دنیا ہنسی بھی اور روئی بھی
بڑی ہی خوار سی ساحلؔ گزاری زندگی ہم نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.