پھر بھی کتنی دیر لگے گی میرے دل کو مرنے میں
پھر بھی کتنی دیر لگے گی میرے دل کو مرنے میں
تو بھی آخر کھو جائے گا دنیا داری کرنے میں
قریہ قریہ سونا ہوگا ہریالی جل جائے گی
پانی بھی تو تھک جائے گا دریا دریا بھرنے میں
دھندلا دھندلا ماضی ہے اور دھندلی دھندلی یادیں ہیں
کتنی مدت لگ جاتی ہے اشکوں کو پھر جھرنے میں
دن کی گرمی میں لایا ہوں دور سے تازہ گھاس میاں
کتنا لطف ملا ہوگا اب چوپایوں کو چرنے میں
کتنی باتیں مل جائیں گی اس کی اک خاموشی سے
جانے کیا کیا پنہاں ہوگا باسطؔ اس کے ڈرنے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.